ميں شاخ تاک ہوں ، ميری غزل ہے ميرا ثمر

اٹھا نہ شيشہ گران فرنگ کے احساں

 خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

دیار و عشق میں اپنا مقام پیدا کر

بتان شعوب و قبائل کو توڑ

اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا

قاری نظر آتا ہے،حقیقت میں ہے قرآن!

مردِ مسلمان

مسلمان کا زوال

اہل دانش عام ہیں،کم یاب ہیں اہل نظر

علم میں دولت بھی ہے،قُدرت بھی ہے،لذّت بھی ہے

زندگی کچھ اور شے ہے،علم ہے کچھ اور شے